فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 72 of 200

فصل الخطاب فی مسالۃ فاتحۃ الکتاب — Page 72

قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوْا إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ۔{ FR 4991 }؂ وَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً جَهَرَ فِيهَا فَقَرَأَ خَلْفَهٗ رَجُلٌ فَقَالَ: «لَا يَقْرَأَنَّ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ{ FR 4992 }؂ وَكَانَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ۔{ FR 4993 }؂ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ خُثَيْمٍ: قُلْتُ لِسَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ: " أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ كُنْتَ تَسْمَعُ قِرَاءَتَهٗ۔{ FR 4994 }؂ قَالَ الْبُخَارِيُّ قَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ جَوَّابِ التَّمِيمِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيْكٍ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ: أَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَإِنْ قَرَأْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينِ قَالَ: وَإِنْ قَرَأْتُ۔{ FR 4995 }؂ { FN 4991 }؂ عمرو بن شعیب سے روایت ہے وہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے پیچھے قراءت کرتے ہو؟صحابہؓ نے عرض کیا: جی ہاں، ہم جلدی جلدی کر لیتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: ام القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے سوا ایسا نہ کیا کرو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 4992 }؂ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی، جس میں آپؐ نے قراءت بالجہر کی تو ایک شخص نے آپؐ کے پیچھے قراءت کی۔پھر آپؐ نے فرمایا: جب امام قراءت کر رہا ہو تو تم میں سے کوئی (بھی) قراءت نہ کرے سوائے اُمّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) کے۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 4993 }؂ اور حضرت عبادہؓ امّ القرآن (یعنی سورۂ فاتحہ) پڑھ رہے تھے جبکہ ابو نعیم (امامت کرواتے ہوئے) قراءت بالجہر کررہے تھے۔{ FN 4994 }؂ (امام بخاریؒ نے بتایاکہ) اور ابن خثیم نے کہا: میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اگرچہ تم اس کی قراءت (بھی) سن رہے ہو۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ) { FN 4995 }؂ امام بخاریؒ نے بتایا کہ اور محمد بن یوسف نے ہمیں کہا کہ سفیان نے ہم سے بیان کیا ، انہوں نے سلیمان شیبانی سے، سلیمان نے جوّاب تمیمی سے، انہوں نے یزید بن شریک سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطابؓ سے پوچھا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ انہوں نے کہا: ہاں۔میں نے عرض کیا: یا امیر المومنین! اگر آپ قراءت کررہے ہوں تو بھی؟ انہوں نے کہا: خواہ میں بھی قراءت کررہا ہوں۔(القراءة خلف الإمام للبخاري، بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ)