فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 439
۴۳۹ ہیں۔بیری میں جس پیز کی زیادہ تعریف کرن مطلوب ہوتا ہے اُسے ملکہ اور عورت کر کے تعبیر کرتے ہیں۔اگر اشکار ہے تو دیکھو حز قیل ۲ باب الی آخرہ۔نسخ احکام یا تکمیل اور احکام کا پورا ہونا آخر اول۔عیسائیوں اور مسلمانوں میں اس جھگڑے کوٹ کر بڑا تجب آتا ہے۔اگر مباحث میں تھوڑا انصاف بھی مدنظر ہوتا تو یہ قضیہ جلد طے ہو جاتا۔کیونکہ پادری صاحبان اور اُن سے سُن کر بہبودو آرین یہ کہتے ہیں کہ نسخ کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ کوئی حکم کسی وقت دیا گیا یا کوئی کام کیا گیا پھر اس میں۔۔دوسرے وقت تنظیم علم ہو یا پہلے حکم یا کم سے دوسرا اور حد کم یا کام جومیں آیا تو ہے ہم کو اٹھا کر دوسرا حکم جاری کر دیا۔یا پہلے کام کو ترک کر کے دوسرا کام شروع کر دیا۔نسخ کے ان معنی سے خداوند تعالے کے کمال علمی اور تقدس کو نقص ثابت ہوتا ہے اور الیسا اعتقاد کفر ہے۔اسے برادران اسلام ان معترض صاحبوں کی خدمت میں عرض کر دو کہ اسلامی شریعیت میں ہم ایسے نسخ کے قائل نہیں۔اور جن اعتقادات سے ذات پاک میں نقص لازم آوے اُن کو ہم لوگ کفر یقین کرتے ہیں ہم نہیں کہتے کہ موسی کے زمانے میں خدا و علم یا تجربہ کم تھا پھرداؤد کے وقت زیادہ ہوا میسج کے زمانے میں اور زیادہ۔اور نبی عربی کے دور دورے میں اور بھی زیادہ ہو گیا۔تو یہ تو بہ توبہ۔پس جھگڑا طے ہوا۔امر دوم۔بعض متعصیان مدعی علم کہتے ہیں۔قرآن میں لکھا ہے۔کہ زبور کے آنے سے توریت اور انجیل سے زبورا در قرآن سے انجیل منسوخ ہوگئی۔اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ قرآن میں یہ بات نہیں لکھی۔زیور تو مناجات کی کتاب ہے۔اس کو نسخ سے کیا تعلق معلوم نہیں ہو سکتا۔یہ دھوکا معترض کو کہاں سے ہوا۔کیونکہ قرآن میں یہ باتیں ہرگز ہرگز نہیں۔نسخ کے معنے عربی لغت میں بدلنے اور باطل کرنے کے ہیں۔قرآن میں لکھا ہے۔