فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 411

وكل شي عنده بمقدار - سیپاره ۱۳ - سوره رعد - رکوع ۲- خدا تعالے نے ہر ایک چیز کو موجودات سے ایک خلقت (نیچر) اور انداز سے پھر بنایا ہے۔اور جیسا اس کی ترکیب اور ہیئت کذائی کا مقتضا ہو۔لابد ویسے افعال اور آثار اس سے سرزد ہوتے ہیں۔گویا جیسے اس کے مقدمات ہوں گے۔لامحالہ ویسا نتیجہ اس سے ظہور پذیر ہوگا۔ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص ان خدائی حدوں کو توڑ سکے اور اُن اصلی خواص کو جو فقدرت نے کسی چیز میں خلق کئے ہیں۔بدوں اُن اسباب کے سین کو خالق نے بمقتضائے فطرت اُن کا سبب معطل قرار دیا ہو کوئی شخص کسی اور طرح پر باطل کر وے سی سلیہ کا ئنات کے خالق کا کلام اس مطلب و مقام میں فرماتا ہے۔تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا سیپاره ۲۲ ، سوره فاطر رکوع ۵ - وَلَن تَجِدَ لِسُنَّة الله تحويلا - سیاره ۲۲ - سوره فاطر ركوعه - مثلاً توحید اور عبادت اور طاعت اور اتفاق اور صحیح کوشش اور پتی کو من ثمرات اور پھلوں کا درخت بنایا ہے۔ممکن نہیں۔کہ دہی پھل اور وہی ثمرات بشرک اور ترک عبادت اور بغاوت اور باہمی نفاق اور تفرق اور غلط کوشش اور سستی سے حاصل ہو سکیں۔جن باتوں کے لئے تریاق کا استعمال ہوتا ہے اُن باتوں کے لئے زہر بار سے کام نکلنا دشوار کیا حال ہے۔ع گندم از گندم بر دید بوز جور گناہ اور جرائم کے ارتکاب سے نیکی اور فرمانبرداری کے انعامات کو طلب کرنا ہے رب تقدیر اور خدائی اندازے کے خلاف ہے۔اور نیکی اور فرمانبرداری پر دوزخ میں جانے کا یقین ہے شیر ریم اور کریم عادل ذات پاک پر ظلم کا الزام قائم کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے :- لے اور ہر چیز کی ہے اُس کے پاس گنتی ۱۲ سو تو نہ پاوے گا۔اللہ کا دستور بدلتا ۱۲ ے اور نہ پاوے گا اللہ کا دستور ٹلتا ہوا