فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 409
۴۰۹ اور جب ہنوز لڑ کے پیدا نہ ہوئے۔اور نہ نیک وبد کے فاضل تھے۔تاکہ جننے میں خدا کا ارادہ جو کاموں پر نہیں۔بلکہ بلانے والے پر موقوف ہے قائم رہے۔جیسا لکھا ہے کہ میں نے یعقوب سے محبت رکھی اور عیسو سے عدادت۔پس ہم کیا کہیں کیا خدا کے یہاں بے انصافی ہے۔ایسا نہ ہوئے کہ وہ میسی سے کہتا ہے۔میں میں یہ ریم کیا چاہتا ہوں اس پر رحم کروں گا۔اور جس پر مہر کر نی چا ہتا ہوں۔اس پر مہر کروں گا پیس یہ نہ چاہنے والے پر نہ دوڑنے والے پر بلکہ خدائے رحیم پر موقوف ہے۔کیونکہ کتاب میں وہ فرعون سے کہتا ہے کہ میں نے اس لئے تجھے برپا کیا ہے کہ تجھ پر اپنی قدرت ظاہر کر دوں اور میرا نام تمام روئے زمین پر مشہور ہو دے۔پس وہ جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے۔اور جیسے چاہتا ہے سخت کرتا ہے۔پس تو یہ مجھ سے کہیگا۔پھر وہ کیوں الزام دیتا ہے۔کس نے اسکے ارادے کا مقابلہ کیا۔اسے آدمی تو کون ہے جو خدا سے تکرار کرتا ہے۔کیا کا ریگری کا ریگر کو کاریگر کہہ سکتی ہے۔کہ تو نے مجھے کیوں ایسا بنایا۔کیا کمہار کا مٹی پر اختیار نہیں کہ وہ ایک ہی لوندے میں سے ایک برتن عزت کا اور دوسرا بے عزتی کا بنا ہے اگر خدا اس ارادے سے اپنے غصے کو ظاہر کرے اور قدرت کو دکھا دے۔قہر کے برتنوں کی جو تباہ کرنے کے لائق تھے۔نہایت برداشت کی اور اپنے بے نہایت جلال کو رحم کے برتنوں پر جو اس نے حشمت کے لئے آگے تیار کئے تھے ظاہر کیا توکیا ہوا۔قلتی ۲ بالبلاد اسی بات ) ۲۳- تمطاؤس - - باب ۹۔اُس نے ہمیں بچایا۔اور پاک بلاہٹ سے بلایا۔نہ ہمارہ سے کاموں کے سبب سے بلکہ اپنے ارادے ہی اور اس نعمت سے بوسیح یسوع کے واسطے ازل میں ہمیں دی گئی۔لوقا - باب --۔اُس نے کہا کہ خدائی بادشاہت کا بھید جاننا تمہیں دیا گیا ہے۔پر اور دل کو تمثیل ہیں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہ دیکھیں۔اور سنتے ہوئے نہ سمجھیں۔۲۴۔منی -- ا باب ۲۹۔کیا پیسے کو دو چڑیاں نہیں بجتیں اور ان میں سے ایک بھی