فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 278
کی طرف منہ کر کے روئیں۔تب فرشتے نے آواز دی۔کیا تو بیمار ہے۔خون مت کر خداوند نے تیرے بچے کی آواز سن لی۔اسے ہاجرہ و اٹھ اور بچے کو اٹھا۔اسواسطے کہ میں اُسے قوم لی اسے او ر کو کا بزرگ بناؤ نگا۔اور خدا نے اُس کی آنکھیں کھولیں۔تب انہوں نے ایک چشمہ پایا۔روہی جیسے مسلمان چاو زمزم کہتے ہیں، اسمعیل بڑھتے اور تیر انداز ہوئے۔حضرت اسمعیل کی والدہ ہاجرہ نے پھرتے پھر تے آخر کہاں مقام فرمایا اور کسی جگہ سکونت اختیار کی تحقیق طلب بات ہے۔لیکن ہم دعوی کرتے ہیں کہ فار آن میدان میں بمقام بیت اللہ مکہ معظمہ میں وہ ٹھہریں۔اور اس امر کے ثبوت کے لئے وجوہات ذیل ہیں۔(۱) تواتر۔اور یہ وہ دلیل ہے کہ اگر اسپر وثوق نہ رہے۔تو پھر تواریخ قدیمیہ کے اثبات کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا۔تو رات کو موسیٰ کی کتاب مانا تو تواتر سے جیسے کو نا صری یا این داؤد مانا تو تواتر سے (۲) ملکی اور قومی روایات اور مشہورہ شکایات سے جن کا ذکر تواریخ میں اور لوگوں کی زبانوں پر غیر متبدل اور مستحکم چلا آتا ہے۔اس لحاظ سے بھی اس قصے کی تصدیق ضروری اور لا بدی امر ہے۔کیونکہ کسی تاریخی واقعے کی تکذیب کہ دینا با اینکه و عقل کے مخالف نہ ہوں سخت غلطی ہے۔پس جبکہ ملکی روایات اور مشہور و حکایات اور تواریخ قدیمیہ متفقا ثابت کرتے ہیں کہ حضرت ہاجرہ نے وادی مکہ میں سکونت کی اور ملک حجاز - وہی دشت فارآن ہے۔تو کونسی بات ان امور کے قبول کرنے سے نہیں مانع ہے۔کیا کوئی قانون قدرت اسے محال بتلاتا ہے۔یا عقل اُس کو باور کرنے سے کتراتی ہے۔(۳) پرا نے جغرافیوں اور قدیم کھنڈرات کی تحقیقات کر نی چاہیئے کہ ہمیں کہاں آباد ہوئے جہاں وہ مقام ملے وہی انکی سکونت کا مقام ہوگا۔اور وہی مقام وادی فاران ہے۔