فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 20

۲۰ ینے میں لیکر آیا۔لاکھ سے زیادہ لوگ اسکے مطبع تھے، اور کہا اگر آ نحضرت صلعم مجھے پنا جانشین اتا ہے تو میں اس کا حامی ہو جاتا ہوں۔پر آپکو کسی کی اعانت سے کیا کام تھا۔یہی آپ نے جواب دیا۔اور آپکے ہاتھ میں اُس وقت کھجور کی شائع تھی۔لوا النتين هذِهِ قِطْعَةُ جَرِينِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتَكَهَا وَلَنْ تَعْدُ وَ أَمْرَ اللهِ فِيكَ وَلَئِن أَدْبَرَت لَيَعْقِرَنَّكَ اللهُ - بخاری نصف اول جلد ۲ صفه ۳۲۸ - معرض آپ کی تمام اس کارروائی سے ثابت ہوتا ہوں کہ آپکو اپنی راستی پر خدا کی ادا پر پورا بھرو تھا۔اور کچھ بھی دنیوی لگاؤ نہ تھا۔انس آپ کا خادم کہتا ہو۔میں نے دس برس آپ کی آخر ایام وفات تک خدمت کی۔مجھے بھی اپنے کاموں میں نہ فرمایا کہ تونے یہ کام کیوں کیا۔یا یوں نہ کیا۔اگر بی بی صاحبان میں سے کوئی بی بی مجھ اسے پر بوجھ سے خفا ہوتیں تو آپ بھر کسی ایسے کام پر ہو مجھ سے بگڑ جاتا۔خفا ہوتیں۔تو آپ فرماتے۔فعل ما قدر - اور اپنی تعظیم اور تکریم کی نسبت فرماتے ہیں۔تَقُومُوا كَمَا يَقُومُ الأَعاجِمُ۔ایک وفعہ کا ذکر ہو۔آپ بیمار تھے۔کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے۔بیٹھ گئے صحابہ جو پیچھے نماز کو جو کھڑے تھے۔انہیں اشارہ کیا۔تم سب بیٹھ جاؤ۔ایسا نہ ہو یہ بات میری خاص تعظیم خیال کی جائے۔شرک کی گرفتار تو میں نئی نئی توحید میں داخل ہوئیں۔ایک نے آکر کہا۔شاہان فارس اور رومی اُن کی رعایا سجدہ کرتی ہوں۔کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں۔آپنے فرمایا۔سجدہ صرف اللہ تعالی کو کرو اے اگر تو مجھ سے یہ کھجور کی شاخ مانگے تو میں تجھے نہ دونگا تو نہ بڑھ نکالیگا خدا کے حکم سے جو تیرے حق میں ہو چکا اور اگر تو نہ جائے اور منہ پھیر لے۔تو ضرور خدا تیری کچیں کاٹے گا یا ے رہی ہوا۔جو مقدر میں تھا۔۱۲ سے ایسے مت کھڑے رہو۔جیسے اور قوموں میں رواج ہے کیا یہاں پیر زاد سے اور فقیر مد نظر نہیں