فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 236 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 236

۲۳۶ ۱۵۳۔مسیحی شگوئیوں کی حقیقت ہے ۳۲۵ من ۳۳ بڑھے ہوئے ہوتے ہیں۔۱۵۱- اگلے نبیوں کی امتیں جلد جلد مرتد ہوگئیں ۳۲۷ ۱۷۳ - فطرت انسانی کی تسخیر کے لئے قرآن سے بڑھ کر ۱۰۱۵۴ ۳۲۸ کوئی نسخہ نہیں۔۱۵۵ - تواریان سیچ کی بیوفائی۔نبی عمر کے حواریوں خلفائے اربعہ) کی وفاداری اور ۱۷۴- پانچویں منگوئی جنگ احزاب کے متعلق من ۳۳ ۱۷۵ - چھٹی پیشگوئی قریب ہی زمانہ میں نہ صرف عرب پر ثبات قارمی - ۱۵ نبی عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں ص۳۲۱ بلکہ عرب کے مشارق ومغارب پر بھی مسلمانوں کا ۱۵۷ ۱۵۸ - عرب کی ملکی حالت - ۱۵۹ - تمدنی اور منمنہ کی حالت ۱۶۰ - اخلاقی حالت 141 عیسائی پویش چرچ کی کیفیت من ۳۳ ۱۶۲۔نبی عرب کی پہلی پیشگوئی -147 " دوسری پیشگوئی تسلط ہو گیا۔۳۴۳۰۳۴۲۰ ۱۷ - ساتویں پیشگوئی مسلمان خلافت اسلامی کے وارث ہو گئے۔اور بڑے جاہ وجلال سے دین اسلام کا جھنڈا لہرایا گیا۔۳۴۳۰ ۱۷۷- قرآن شریف پیشگوئیوں کی محبت غریب علمی مضامین بھرا ہوا ہے۔۱۶۴ - اہل عربسے خطاب مثیل موسی آگیا۔فرعونی ۱۷۸ - ۱۷۸ - ترکوں سے لڑائی کی پیش گوئی۔ه ۳۴۳ D ۳۴۴ طاقتیں فنا ہونگی - ۳۳۲۰ - ۳۳۳ ۱۷۹ - آنحضرت کے متعلق دشمنوں کے دائی حفاظت کا وعد در ۳۳۳ ۱۶۵ - افران امتوں کی بابت عادۃ الہیہ کی طرح جاری ۳۳ ۱۸۰ ہر کوئی ٹھیک اپنے وقت مقرر پر پوری ہوئی۔۳۴۵ 14 ش مارے - تیسری پیشگوئی - والله يعصمك من الناس ۳۳ ۱۸۱ پیش گوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ سے نکالنے کے بعد ۱۹۷ نبی جھوٹے نبی کے متعلق اپنی دعد کہ وہ قتل کیا جاتا، ۳۳۵ مکہ والوں کی طاقت ٹوٹ جائیگی۔ص۳۲۶ ۱۶۸ مسیلمہ کذاب امور سی۔اور حجاج بیت الی ار ہے گئے ۳۳ ۱۸۲ - پیشگوئی۔وہ زبردست قحط کا شکار ہو جائینگے۔اُن کی ۱۹۔عیسائیوں کو عاون سے سمجھنے کاموقعہ نہ دیا کہ ایک معاون امن کی حالت خوف میں بدل جائیگی۔۳۴۶ کی تکذی ہے تو رات کوجھٹلا رہے ہیں۔ص ۳۳ ۱۸۳ پیشگوئی- انجام کار مومن متقین کا میاب ھے ۳۴۷ ہوئے " - ۱۸۴ نگے ۱۷۰ - صداقت اور حق بڑی قوت ہے م۳۳۱ پہلے نبیوں کی قوموں کے واقعات پر آ جائینگے مگ صادق میں ایک فوق العادت قوت مقناطیسی ہوتی ۱۸۵- ایک پادری کے رسالہ عام ضرورت قرآن کا جواب مک ۳۴ ہے جو سعید الفطرت حق بجو طبائع کو اپنی طرف ۱۸۶۔پہلی ضرورت کھینچ لاتی ہے۔۱۸۷ - دوسری ضرورت ۱۷۲ - صداقت کے وجدانی دلائل منطقی و فلسفی دلائل سے ۱۸۸ - تیسری ضرورت ۳۴۹ ۳۵۰