فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 14 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 14

۱۴۷ موسی کا خیال مت کرو۔اول تو وہ آنحضرت صلعم کے مثیل ہیں۔دوم موسی نے اپنی قوم کو بیابان ہی میں چھوڑا۔منزل مقصود تک نہ پہنچا۔بلکہ موسی آپ بھی ملک موجود میں نہ پہنچے۔محروم ہی رہے۔تورات استثنا ۳۲ باب ۵۲ آیت۔میرے اس مضمون کو قرآن سے تصدیق کرنا ہوتو پڑھو ابتد کے نعمت پرقرآن فرماتا ہے۔الم تَرَكَيفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ اَلَمْ يَجْعَلُ كَيْدَ هُمْ فِى تضليل - سوره فیل - سیپاره ۳۰ رکوع ۳۰ اور آخری نعمت پوری کا میابی پر جو سچائی کا معیار ہے۔فرمایا۔اليومَ يَسَ الَّذِينَ كَفَرُ وا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخَشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ - اليوم أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي - سوره مائده سیپاره ۶ رکوع ۵ اسے قوم کے حامیو قوموں کے مصلحین کے قدر کرنیوالو۔اسے قوم کو عروج کیطرف بلانے والوں کے قدر دانو۔اس منجی قوم - عامی قوم۔فخر ملک کے خرق عادت پر قربان ہو جاؤ۔آؤ۔اُسی کا اتباع کریں۔اُسی کا طرہ اختیار کریں۔صلی اللہ علیہ وسلم - آپنے قیمی میں پرورش پائی۔ابتداء عبد المطلب کے پاس جو آپ کے دادا تھے۔پھر اپنے چھا ابوطالہ کے گھر۔تمام مورخ اس بات پر متفق ہیں کہ حضور کے اعلیٰ درجہ کے چال چلن سر چھا اور بھی ہے میں پرلے درجہ کی محبت ہوگئی تھی۔اور آپ تمام شہر میں ہر دلعزیز بن گئے تھے۔ابو طالب سیر یا سفر میں آپکو علیحدہ نہ کرسکے۔بلکہ ساتھ ہی لے گئے۔حالانکہ آپ کا سن اُس وقت نو برس کا تھا۔(دیکھیں ابو الفداء یہ بات فراموشی کے قابل نہیں کیونکہ عیسائی کہتے ہیں آپ نے یہود سے لے تونے نہ دیکھا کیسا کیا تیرے اپنے ہاتھی والوں سے۔کیا نہ کردیا اُن کا داؤ غلط ۱۲ کہ آج نا امید ہوئے کافر تمہارے دین سے سو اُن سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔آج میں پورا دے چکا تم کو دین تمہارا اور پورا کیا تم پر میں نے احسان ۱۳