فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 151

۱۵۱ یاد رکھو جس طرح تم عیب لگاتے ہو۔اسی طرح میری بھی عجیب لگایا جاویگا منی ، باب ۲ - ناظرین اس لمبے چوڑے سوال اور اس سوال کی تہذیب کو دیکھئے۔سوره تحریم کے پہلے رکوع کی تفسیر میں ہجر محمد صاحب اپنی پادری کا سوال اور زوجہ حفصہ کے گھر گئے اور اسکی لونڈی ماریہ قبطیہ سے اپنی زوجہ کی غیر حاضری میں ہم بستر ہوئے۔حفصہ مذکور یہ معلوم کر کے ناراض ہوگئی۔تب محمد جب نے اس شہرت بد کو بند کرنے کے لئے اور اپنی زوجہ حفصہ کو راضی کرنے کیلئے قسم کھائی اور کہا کہ میں پھر اس لونڈی سے ہم بستر نہ ہونگا۔اور اپنی زوجہ حفصہ سے فرمایا کہ یہ بات تیرے پاس امانت ہے سو یہ ماجرا تو کسی پر ظاہر نہ کرنا۔جب محمد صاحب اُسکے محمد گھر سے چلے گئے تو حفصہ نے یہ تمام احوال عائشہ پر ظاہر کر دیا۔اور پھر عائشہ سے جب محمد صاحب کو معلوم ہو گیا کہ یہ ا جا چپ نہ سکا تو قرآن میں بمقام مذکورہ الصدر ایک آیت نازل کرلی کہ بیشک قسم کو توڑ کر لونڈی سے ہم بستر ہوتے رہے۔اپنی عورتوں کی خوشنودی نہ چاہیئے۔پس اس ماجرے سے تین گناہ محمد صاحب پر ثابت ہیں۔اول - گناہ زنا کا جسکے سبب محمد صاحب نے اپنی زوجہ حفصہ سے ملامت اٹھائی اور ہد نامہ ہو کر اس گناہ کے چھپانے کی کوشش کی اور آخر کار قسم اٹھا کر جان چھوڑانی پڑی۔دوم۔گناہ قسم پر قائم نہ رہنے کا کہ وہ پھر اسی لونڈی سے ہمبستر ہوتے رہے کن نہ کا کہ پھراس اور اسی سبب محمدیوں پر بھی قسم کا توڑ نا جائز کر دیا۔سوم۔ایسے ناشائ نہ فعل میں یعنی لونڈی سے ہمبستر ہوتے رہے۔اورقسم کے سوم: توڑنے میں خدا کو بھی شریک کر کے اجازت دینے والا قرار دیا۔جواب - محور فرمانے والے ناظرین سنور عیب گیر پادری صاحب اول تو قرآن سے نکال کر یہ اعتراض نہیں دکھا سکتے بلکہ کسی تفسیر سے نیچے ہے قرآن کریم اسے اعتراضات کا اناجیل کی طرح منشاء نہیں ہو سکتا۔