فیضان نبوت — Page 49
۴۹ پس جب عیسی علیہ السلام آئیں گے تو بحیثیت نبی ہی آئیں گے۔اور یہ کہنا کہ وہ نبی تو ہوں گے مگر کام نبوت کا نہیں کرینگے اور بھی مضحکہ خیز بات ہے کہ اللہ تعالے ایک نبی تو بھیجے مگر اس سے نبوت کا کام نہ لے ! کیا یہ امر ایک علیم و حکیم مستی کی شان کے شایاں ہے کہ وہ ایسے کام کے لئے ایک جلیل القدر نبی کو مبعوث کرے جو منصب نبوت سے تعلق نہیں رکھتا ؟ اور کیا اس سے عیسی علیہ سلام کی عزت اور خدا کی حکمت پر حرف نہیں آتا ؟ باقی رہا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا سراج منیر ہونا تو اس کے متعلق عرض ہے کہ اگر آپ کے بعد عالم اسلام پر رات کی تاریکی نہیں کچھ اسکتی تو بے شک کسی چاند کی ضرورت نہیں لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے :- ياتي عَلَى النَّاسِ زَمَانُ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرَانِ إِلَّا رَسْمُةَ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٍ مِّنَ الهُدى عَلَمَاؤُهُمْ شَرَّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ - (مشكوة كتاب العلم من ٣ ) معنی میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ نامہ کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اور الفاظ کے سو اقرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں