فیضان نبوت — Page 37
۳۷ بالکل واضح ہو جاتی ہیں۔ایک یہ کہ خاتم النبیین کے الفاظ کو لانی بعد کے معنوں میں سمجھنا درست نہیں۔اور دوسرے یہ کہ حضرت عائشہ کے نزدیک لانبی بعدی کا فقرہ بنی کی جنس کی نفی کے لئے نہیں بلکہ نبی کی جنس سے بعض نوع کی نفی کے لئے ہے یعنی تشریعی نبی اور مستقل نبی کے لئے۔اور جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی اطات سے بنی ہو کر آنے والا ہو اور آپ کا اتنی ہو اس کے آنے میں یہ فقرہ مانع نہیں اور نہ ہی اس قسم کا نبی لانبی بعدی کے حکم کے نیچے ہے۔اور اگر اس نفی سے مطلق نفی مراد ہوتی تو حضرت عائشہ ہرگز یہ نہ فرمائیں :- لا نبي بعدها مت کہو۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے فرزند ابراہیم کی وفات پر قطعاً یہ ارشاد نہ فرماتے کہ لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا - ر این ماجه جلد احته ۲۳ مطبوعه مصر) یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ لا نبی بعدی سے مراد ترسیم کی نفی نہیں کیونکہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زند رہتا تو بھی نبی نہ ہوتا بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر وہ زندہ رہنا تو ضرور نبی ہوتا جس سے صاف ظاہر ہے کہ ابراہیم کے نبی ہونے ہیں حدیث