فیضان نبوت — Page 180
یعنی اگر ریشخص بھی ہماری طرف جھوٹا العام منسوب کرتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم یقینا اس کو دائیں ہاتی سے پکڑ لیتے اور اس کی رگِ جان کاٹ ڈلتے۔ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹا الہام منسوب کرنے والا قتل ہو جاتا ہے۔اور دنیا کی کوئی طاقت اسے تقول کی سزا سے بچا نہیں سکتی۔یہی وجہ ہے کہ جمعیت وطاقت کے با وجو د مسیلمہ کذاب قتل ہو گیا اور آج دنیا میں اس کا کوئی سرکا نظر نہیں آتا لیکن محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم قتل سے محفوظ رہے اور باوجود شدید مخالفت کے آپ کا سلسلہ روزبر در ترقی کرتا چلا گیا یہانتک کہ دنیا پر محیط ہو گیا۔اب آؤ اور اسی معیار نبوت سے بانی سلسلہ احمدیہ کی صداقت کو پرکھ لو کہ آپ اپنے دعوے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح صادق ہیں۔یا مسیلمہ کی طرح کا ذب؟ با وجودیکه دخوشی کے بعد آپ نے آنحضرت کے زمانہ نبوت سے بھی زیادہ زمانہ گزارا اور قریباً تیس سال تک اپنے الہامات شائع کرتے رہے۔پھر بھی آپ قتل سے محفوظ رہے اور آپ کا سلسلہ ہزار ہا مخالفتوں کے باوجود دن دونی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔کیا یہ امر آپ کی صداقت کا روشن ثبوت نہیں ؟ سچ سچ کہو اگر مرنہ ا صاحب منقول ہوتے تو کیا آپ تقول کی سزا سے بچ سکتے تھے؟ اور کیا وہ خدا جو اپنے جیب