درثمین مع فرہنگ — Page 58
میں کیونکر گن سکوں تیرے یہ انعام کہاں ممکن ترے فضلوں کا ارقام ہر اک نعمت سے تو نے بھر دیا جام سر راک دشمن کیا مردود و ناکام یہ تیرا فضل ہے اے میرے بادی فَسُبْحَانَ الَّذِي آخرى الآعَادِي بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ راک عالم کو پھیرا لبشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي مری ہر بات کو تو نے چلا دی مری ہر روک بھی تو نے اُٹھا دی مری ہر پیش گوئی خود بنا دی ترى نَسْلاً بعيداً بھی دکھا دی جو دی ہے مجھ کو وہ کیس کو عطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْزَى الْأَعَادِي بہار آئی ہے اس وقت خزاں میں گے ہیں پھول میرے بوستان میں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے جہاں میں عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار تنہاں میں 58 58