درثمین مع فرہنگ — Page 192
پنجنی سے بچے اگر دل میں تمھارے شر نہیں ہے تو پھر کیوں ظن بد سے ڈر نہیں ہے کوئی جو ملین پر رکھتا ہے عادت ظن ید بدی سے خود وہ رکھتا ہے ارادت نہ اہل عفت و دیں کا ہے پیشہ گمان بد شیائیں کا ہے پیشہ بد تمھارے دل میں شیطاں دے ہے بچتے اسی سے ہیں تمھارے کام کچنے دہی کرتا ہے ظن بد ہلا کریب کہ جو رکھتا ہے پردہ میں وہی عیب وه فاسق ہے کہ جس نے رہ گنوایا نظر بازی کو ایک پیشہ بنایا مگر عاشق کو ہرگز بد نہ کہیں! وہاں بدظنیوں سے بچ کے رہیو اگر عشاق کا ہو پاک دامن یقیں سمجھو کہ ہے تریاق دائن مگر مشکل یہی ہے درمیاں میں کہ گل ہے خار کم ہیں بوستاں میں تمھیں یہ بھی سناؤں اس بیاں ہیں کہ عاشق کس کو کہتے ہیں جہاں میں دہ عاشق ہے کہ جس کو حسب تقدیر محبت کی کہاں سے آ لگاتیر نہ شہوت ہے نہ ہے کچھ نفس کا ہوش ہوا الفت کے پیمانوں سے مدیونش لگی سینہ میں اس کے آگ غم کی وہ نہیں اس کو خبر کچھ پیچ وخم کی 192 ( منقول از مستودات حضرت مسیح موعود )