درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page ii of 320

درثمین مع فرہنگ — Page ii

حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں : و اشعار میں اپنے مضامین کو بیان کرنے کی ہمیں ضرورت اس لیے پیش آئی۔کہ بعض طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں۔کہ ان کو نشر عبارت میں ہزار پیرایہ لطیف ہیں کوئی صداقت بتائی جائے وہ نہیں سمجھتے۔لیکن اسی مفہوم کو اگر ایک برجستہ شعر میں منظوم کر کے سُنایا جائے۔تو شعر کی لطافت ان پر بہت کچھ اثر کر جاتی ہے شعر کو سُن کر بھڑک اٹھتے ہیں۔اور حق کو شعر کے ذریعہ فوراً قبول کر لیتے ہیں۔اس کی مثال طبیب کے اس معالجہ جسمانی کی طرح ہے۔کہ جب طبیب دیکھتا ہے کہ مریض کو منہ کی راہ سے اب دوا مفید نہیں ہوگی۔تو پھر بیمار کے لئے حقنہ تجویز کرتا ہے۔اور اس ذریعہ سے بیمار کی قبض دور ہو جاتی ہے اور وہ صحت یاب ہو جاتا ہے۔سو یہی حال ہمارے شعر و سخن کا ہے۔اور تجربہ سے دیکھا گیا ہے۔کہ بعض طبائع کے لئے مضامین شعر یہ بہ نسبت مضامین نشتر کے زیر۔زیاده موثر ثابت ہوتے ہیں۔اسی لئے قرآن شریف متعفی اور مسجع عبارت میں نازل ہوا ہے۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہیں اشعار کہنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اکثر لوگوں کو بہت کچھ دلائل دے کر سمجھا یا گی مگر کارگر نہ ہوئے۔لیکن جب انہوں نے اشعار پڑھے۔تو یہ اشعار انہی منکرین پر بہت اثر کر گئے۔اور فوراً انہوں نے حق کو قبول کر لیا۔" رالحکم قادیان ۲۰ اگست ستمبر ۱۹۳۰ صفحه ۲)