درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 171

دیکھ لو میل و محبت میں عجب تاثیر ہے ایک دل کرتا ہے جھک کر دو سے دل کو شہکار کوئی رو نزدیک تر راہ محبت سے نہیں طے کریں اس راہ سے سالک ہزاروں دشت غار اس کے پانے کا یہی اے دوستو اک راز ہے کیمیا ہے جس سے ہاتھ آجائے گا کر بے شمار تیر تاثیر محبت کا خطا جاتا نہیں تیر اندازو ! نہ ہونا ست اس میں زینهار ہے یہی اک آگ تائم کو بچاوے آگ سے ہے یہی پانی کر نکلیں جس سے صد با آبشار اس سے خود آکر ملے گا تم سے وہ یار ازن اس سے تم عرفان حق سے پہنو گے پھولوں کے ہار وہ کتاب پاک و برتر جس کا فرقاں نام ہے وہ یہی دیتی ہے طالب کو بشارت بار بار جن کو ہے انکار اس سے سخت ناداں ہیں وہ لوگ آدمی کیونکر کہیں جب اُن میں ہے شبق حمار کیا یہی اسلیم کا ہے دوسے دینوں پر فخر کر دیا قبضوں پر سارا ختم دیں کا کاروبار مغز فرقان مطہر کیا یہی ہے زہد خٹک کیا یہی چوہا ہے نیکلا کھود کر یہ کو سہار گر یہی اسلام ہے بس ہو گئی امت ہلاک کس طرح رہ مل سکے جب دیں ہی ہو تاریک و تار منہ کو اپنے کیوں بگاڑا نا اُمیدوں کی طرح فیض کے در کھل رہے ہیں اپنے دامن کو کیار کس طرح کے تم بشر ہو دیکھتے ہو صد نشاں پھر وہی جد و تعصب اور وہی رکین و نقار 171