درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 124

کے حُب جاہ والو ! یہ رہنے کی جا نہیں اس میں تو پہلے لوگوں سے کوئی رہا نہیں دیکھو تو جا کے اُن کے مقابر کو راک نظر سوچو کہ اب سلف ہیں تمھارے گئے کدھر اک دن وہی مقام تمھارا مقام ہے اک دن یہ صبح زندگی کی تم پہ شام ہے اک دن تمھارا لوگ جنازہ اٹھائیں گے پھر دفن کر کے گھر میں تائف سے آئیں گے اے لوگو ! عیش دُنیا کو ہر گز وفا نہیں کیا تم کو خوف مرگ و خیالِ فنا نہیں سوچو کہ باپ دادے تمھارے کدھر گئے کسی نے بلا لیا وہ سبھی کیوں گزر گئے وُہ دن بھی ایک دن تمھیں یارو نصیب ہے خوش مت رہو کہ کوچ کی نوبت قریب ہے ڈھونڈو وہ راہ جس سے دل دسینہ پاک ہو تفي وفى خُدا کی اطاعت میں خاک ہو 124