درثمین مع فرہنگ — Page 115
صبر کی طاقت جو تھی مجھ میں وہ پیارے اب نہیں میرے دلبر اب دکھا اس دل کے بہلانے کے دن دوستو اس یار نے دیں کی مصیبت دیکھ لی آئیں گے اِس باغ کے اب جلد لہرانے کے دن اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا اب یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن دن بہت ہیں سخت اور خوف و خطر درپیش ہے پر نہیں ہیں دوستو اُس یار کے پانے کے دن دیں کی نصرت کے لئے راک آسماں پر شور ہے اب گیا وقت خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن چھوڑ دو وُہ راگ جس کو آسماں گاتا نہیں اب تو ہیں اسے دل کے اندھو ! دیں کے گن گانے کے دن خدمتِ دیں کا تو کھو بیٹھے ہو بغض و کیس سے وقت اب نہ جائیں ہاتھ سے لوگو! یہ پچھتانے کے دن خاتمہ حقیقت الوحی صفحه آخر مطبوعہ ۱۹ / روحانی خزائن جلد ۲۲ ص ۷۲۵ ) 115