درثمین مع فرہنگ — Page 105
آریوں سے خطاب عزیزو ! دوستو ! بھائیو اشنو بات خدا بخشے تمہیں عالی خیالات ہمیں کچھ کہیں نہیں تم سے پیاید نہ رکیں کی بات ہے تم خود بچپارو اگر کھینچے کوئی کہنے کی تلوار تو اس سے کب ملے بچھڑا ہوا یار غرض پند و نصیحت ہے نہ کچھ اور خُدا کے واسطے تم خود کرو غور کہ گر ایشر نہیں رکھتا یہ طاقت کہ اک جہاں بھی کرے پیدا بقدرت تو پھر اس پر خدائی کا گماں کیا وگر قدرت بھی پھر وہ ناتواں کیا کہاں کرتی ہے عقل اس کو گوارا که بین قدرت ہوا یہ جگت سارا وگر تم خالق اس کو مانتے ہو تو پھر اب ناتواں کیوں جانتے ہو بھلا تم خود کہو انصاف سے صاف کہ ایشٹر کے یہی لائق ہیں اوصاف کہ کر سکتا نہیں اک جاں کو پیدا نہ اک ذرہ ہوا اس سے ہویدا نہ اُن بن چل سکے اس کی خدائی نہ اُن بن کر کے زور آزمائی 105