دُرِّثمین اُردو — Page 92
۹۲ کہتے ہیں حُسنِ یوسف دلکش بہت تھا لیکن خوبی و دلبری میں سب سے سوا یہی ہے یوسف تو سن چکے ہو اک چاہ میں گرا تھا یہ چاہ سے نکالے جس کی صدا یہی ہے اسلام کے محاسن کیونکر بیاں کروں میں سب خشک باغ دیکھے پھولا پھلا یہی ہے ہر جا زمیں کے کپڑے دیں کے ہوئے ہیں دشمن اسلام پر خدا سے آج ابتلا یہی ہے تم جاتے ہیں کچھ آنسو یہ دیکھ کر کہ ہر سو اس غم سے صادقوں کا آہ و بکا یہی ہے سب مشرکوں کے سر پر یہ دیں ہے ایک منجر یہ شرک سے چھڑاوے اُن کو اذی یہی ہے کیوں ہو گئے ہیں اس کے دشمن یہ سارے گمراہ وہ رہنما ہے رازِ چون و چرا یہی ہے دیں غار میں چھپا ہے اک شور کفر کا ہے اب تم دُعائیں کر لو غارِ حرا یہی ہے