دُرِّثمین اُردو — Page 89
۸۹ رکتے نہیں ہیں ظالم گالی سے ایک دم بھی ان کا تو شغل و پیشہ صبح و مسا یہی کہنے کو دید والے پر دل ہیں سب کے کالے ہے پردہ اُٹھا کے دیکھو ان میں بھرا یہی ہے فطرت کے ہیں درندے مُردار ہیں نہ زندے ہر دم زباں کے گندے قہر خدا یہی ہے دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پہ اُترے دل میں اُٹھا یہی ہے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے شخص بقیہ حاشیہ صفحہ نمبر ۸۸ ہے۔صرف تعصب اور خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں سے کینہ اور گالیاں دینا ہی یہ کو بدنصیب اپنے چیلوں کو سکھا گیا ہے۔بلکہ یوں کہو کہ ایک زہر کا پیالہ پلا گیا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارا سب اعتراض دیانند کے فرضی ویدوں پر ہے نہ خدا کی کسی کتاب پر۔وَاللهُ أَعْلَمُ منه اگر ایسے لوگ بھی ان میں ہیں جو خدا کے پاک نبیوں کو گالیاں نہیں دیتے اور صلاحیت اور شرافت رکھتے ہیں وہ ہمارے اس بیان سے باہر ہیں۔منہ یادر ہے کہ یہ ہماری رائے اُن آریہ سماج والوں کی نسبت ہے جنہوں نے اپنے اشتہاروں اور رسالوں اور اخباروں کے ذریعہ سے اپنی گندی طبیعت کا ثبوت دیدیا ہے اور ہزار ہا گالیاں خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو دی ہیں جن کی اخبار اور کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں، مگر شریف طبع لوگ اس جگہ ہماری مراد نہیں ہیں اور نہ وہ ایسے طریق کو پسند کرتے ہیں۔منہ