دُرِّثمین اُردو — Page 68
۶۸ القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آ کے وہ دیں کی لڑائیاں ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی وہ سلطنت وہ رعب وہ شوکت نہیں رہی وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزمِ مقبلا نہ وہ ہمت نہیں رہی وہ علم وہ صلاح وہ عقمت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاندسی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وہ درد وہ گداز وہ رقت نہیں رہی خلق خدا یہ شفقت و رحمت نہیں رہی دل میں تمہارے یار کی اُلفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذب نصرت نہیں رہی حمق آ گیا ہے سر میں وہ فطرت نہیں رہی گسنل آ گیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پر سبقت نہیں رہی وہ اُنس و شوق و وجد وہ طاعت نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد و نہایت نہیں رہی ہر وقت جھوٹ ، سچ کی تو عادت نہیں رہی نور خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی مولیٰ سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے، موڈت نہیں رہی تم کر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی