دُرِّثمین اُردو — Page 58
۵۸ بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہو گا ایک دن محبوب میرا کروں گا دُور اُس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي مری ہر بات کو تو نے چلا دی مری ہر روک بھی تو نے اُٹھا دی مری ہر پیش گوئی خود بنا دی تراى نَسُلًا بَعِيدًا بھی دکھادی جو دی ہے مجھ کو وہ کس کو عطا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي بہار آئی ہے اس وقتِ خزاں میں لگے ہیں پھول میرے بوستاں میں ملاحت ہے عجب اس دلستاں میں ہوئے بدنام ہم اس سے جہاں میں عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں ہوا پر وہ ظاہر میرا ہادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي کروں کیونکر ادا میں شکر باری فدا ہو اُس کی رہ میں عمر ساری مرے سر پر ہے منت اس کی بھاری چلی اس ہاتھ ނ کشتی ہماری مری بگڑی ہوئی اُس نے بنا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تجھے حمدوثنا زیبا ہے پیارے کہ تو نے کام سب میرے سنوارے