دُرِّثمین اُردو — Page 167
۱۶۷ مجھ کو خود اس نے دیا ہے چشمہ توحید پاک تا لگاوے از سر نو باغ دیں میں لالہ زار دوش پر میرے وہ چادر ہے کہ دی اُس یار نے پھر اگر قدرت ہے اے منکر تو یہ چادر اُتار خیرگی سے بدگمانی اس قدر اچھی نہیں ان دنوں میں جب کہ ہے شور قیامت آشکار ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش پر نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی دیوار دیں اور مامنِ اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار جاہلوں میں اس قدر کیوں بدگمانی بڑھ گئی کچھ بُرے آئے ہیں دن یا پڑ گئی لعنت کی مار گچھ تو مجھیں بات کو یہ دل میں ارماں ہی رہا واہ رے شیطاں عجب ان کو کیا اپنا شکار اے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہو گئی اے ہوشیار میں اگر کاذب ہوں کذابوں کی دیکھوں گا سزا پر اگر صادق ہوں پھر کیا غذر ہے روز شمار اس تعصب پر نظر کرنا کہ میں اسلام پر ہوں فدا پھر بھی مجھے کہتے ہیں کافر بار بار میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِخدا جس سے ہوا دن آشکار ہائے وہ تقویٰ جو کہتے تھے کہاں مخفی ہوئی ساربان نفسِ دُوں نے کس طرف پھیری مہار کام جو دکھلائے اس خلاق نے میرے لئے کیا وہ کر سکتا ہے جو ہو مُفتری شیطاں کا یار میں نے روتے روتے دامن کر دیا کر درد سے اب تلک تم میں وہی خشکی رہی با حالِ زار