دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 79

69 یرد آن جزیہ کلام شهدا که دل شان بهبود از دنیا یک کے عظیم الہی کی کشش ہی تو تھی میں نے ان کے دلوں کو دنیا کی طرف سے ہٹا دیا سینہ شال زیر تق پرداخت و از من عشق آن گاں پر ساخت ان کے سینہ کو غیر اللہ سے خالی کر دیا۔اور اس بیگانہ کی محبت کی شراب سے بھر دیا چون شد اس نور پاک شامل شان سافت از پرده بدر کامل شال یا وہ پاک اور ان میں رچ گیا۔تو پردہ میں سے بدر کامل چکا دور شد ہر حجاب ظلمانی شد سراسر وجود نورانی ره ظلمت کے حجابوں سے دور ہوگیا اور سراسر نورانی وجود بن گیا خاطر نشان بجذب پنهانی کرد مائل به عشق روانی کے دل کو ایک مفتی کشش سے خدا کے عشق کی طرف مائل کر دیا عشق تیز مرکب را ند که ازان مشت خاک پیچ نمانم عشق نے ان ستیہ گھوڑا دوڑایا کہ اس مشتِ خاک کا کچھ بھی باقی نہ سکا خودی مان نے نے خودی ماند نے مواد نہیں کر اوفتاد و خاک دونوں سرکس نہ خودی رہی نہ حرص و ہوا ہی رہی۔گویا کسی کا سرخاک اور خون میں پڑھا ہو عاشقان حلال روئے مجھدا طالبان زلالی ہو تے خدا دہ خدا کے جلال کے عاشق ہیں۔اور خدا کی نہر کے مصنفیٰ پانی کے طالب پر ز عشق و تہی زہر آنے کشت و زانیان نجاست کھانے سے شوق سے بھر گئے اور برائی سے خالی ہو گئے جیش نے ان کو قتل کر دیا اور ان کی آواز بھی نہ نکلی