دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 334

کمار نے است نیز میرانی صدر حسین است در گریبانم لائے میں کربلا میری ہر آن کی سیر گاہ ہے۔سینکڑاں حسین میرے گریبان کے احمد الاهم نیز احمد افشار اور برسم چاہیے ہمہ ایوار المدار میں آدم بھی ہوں اور احمد مختار بھی میرے جسم پر تمام ابراللہ کے خلعت ہیں کا رہا ہے کہ کرد با من یار برتر اس دفتر است انه اظهار وہ کام جو خدا نے میرے ساتھ کیے وہ اتنے زیادہ ہیں کہ شہر میں نہیں ہوسکتے انه دار است بر نمی را جام داد آن جام را مرا تمام پرداد جو عالم اس نے ہر نبی کو عطا کیا تھا ہی جام اس نے کامل طور سے مجھے بھی دیا ہے ول من مهد و الفت خود داد خود مرا ند بوحي خود استاد وہ میرا دل لے گیا اور اپنی الفت مجھے دے دیا اور وحی کے ذریعہ آپ میرا اُستاد بن گیا۔وحی او را مجب اثر دیم روئے آل مہر ناں تم دیدم میں نے اُس کی بھی میں معجب اثر دیکھا یعنی اس سورج کا چہرہ اس چاند کے طفیل نظر آگیا دیدم از خلق رنج و کره بات دانچه چیز است پیش این مقالات میں نے مخلوق سے بو رنج اور تکلیفیں دیکھیں وہ اپنی لذتوں کے آگے کیا چیز ہیں دیدم از بهر خلق جلوه یاد کار دیگر بر آمد از یک کار میں نے خلقت سے بیحد ہو کر یاد کا جلوہ دیکھا۔ایک کام سے دوسرا کام نکل آئی لے اس شعر کا صرف یہ مطلب ہے کہ حضرت حسین تو ایک ہی مرتبہ کر بلا گئے تھے مگر میں ہر وقت رہا یعنی معیت میں ہوں اور مجھ پر ایک سوچیتوں کے برابر مصیبت پڑی ہے یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایسے ایسے سو حسین میری جیب میں پڑے ہیں (محمد اسماعیل پانی پتی)