دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 309
٣٠٩ اگر آسمان مندر تاب میرے تابد بیند روزی روشن آنکه گم کرده امارات یا میانمار باید از روشن کارگر امارات ما ان ستان سیکڑوں پان اور سو چنے لگیں زمیں کی نظر جاتی رہی ہے وہ روز روشن کو نہیں دیکھ سکتا تواس دانا ترس از اکرسونے اور نا ہی رفت دنیا دل چسے بندی چه دانی وقتی علت را اسے وانا تم اس خدا سے دوری کی طرف مجھے جانا ہے دنیا سے کیا دل لگاتا ہے کیا تو موت کا وقت جانتا ہے؟ مشواز پر دنیا سرکش فرمان احمدیت محران بر رونے بنانے کی تو قوت را دنیا کی خاطر فدائے واحد کے حکم سے سرتابی نہ کر اے مسکین تو چند روز کے مزے کے لیے بد بختی نه خرید ایی کیا یا ردو عالم جاه و دولت را دارا باش و ازدل پیشین خودگیر است را گر کرو چاہتا ہےکہ دونوں جہان میں موت اور دولت حاصل کرے تو ندا کا ہو جا اور دل سے اس کی فرمانبرداری اختیا کہ فارم کیش باش و عالم بادشاہی کن با شدیم از غیرسے پرستاران حضرت را اس کی درگاہ کا غلام ہے اور دنیا پر حکومت کر کہ خدا پرستوں کو اس کے غیر سے خون نہیں ہوتا قاتل ہونے یار خود با نا نیز یاد آیا محبت می کند با بند ان محبت کر نداد نصرت برانکس بود که نارین ست ہمیں افتاده ای از ازل در گاه موقت را خدا اس کی مد میں لگا رہتا ہے جو اس کے دین کا ناصر ہو۔ہمیشہ سے درگاہ رب العزت کا لی قانون ہے۔ر بار نے کرد جوان این واقعاتم را را تا بینی خود مشکی نواع نصرت را یاد آید تی تھیں میں آنا تو میرے ان واقعات کوپڑھے تا کہ تو میری شکل کے وقت خدا کی نصرتوں کودیکھ لے مهران و یا بداند نگاه از خدمت همی باید که خفت باران است ای ساعت را المرائے بہت و شخص بھی اس کی درگاہ سے چھپا ہے موت سے پتا ہے کیونکہ رات کے لیے راہے اور ضرورت کیے ہیں ہے