دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 27

P6 انہوں نے ترسی از روز یان پرس | یوں نہ ترسی از حضور داور سے تو روز قیامت سے کیوں تھیں ڈرتا۔انصاف کرنے والے خلد سے کیوں خوف تھیں کھانا انائے شاں جہاں گشتنت یقیں یا خدایت را نموده دفتری کو کے اس اترا پر تجھے کس طرح انبار آ گیا یا دانے ہی تیرے سامنے کوئی دفتر کھول دیا ہے اور شان یک عالمی را در گرفت تو ہنوز اسے کور در شور و شرے ان انیوں کے ٹور نے ایک جان کو گھیر لیا لیکن اسے اندھے تو ابھی غل و شور میں مبتلا ہے اعلان تا ال ساگر گوئی کثیف | انہیں چہ کا ہر قدیر روشن جوهرے چکا اس کو اگر تو خراب کر دے تو اس سے آباد یرے کی قیت کیونکر گھٹا سکتی ہے طعنہ بر پا کال نہ یہ پا کال بود خود کنی ثابت کہ مہستی فاجور سے پاک پر طعنہ نہ نی کاری یکسانوں پرنہیں پاتی بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ تو خود فاجر ہے بغض با مردان نقی نامردی است اس بشر باشد که باشد بے شہر سے مردان خدا سے عداوت کرنا نا مردی ہے بشر تو وہ ہوتا ہے جو ہے شر ہو اوانکه در کن و کراهت سوخت است انفس دول را است میبد لا نفری ر شمنی اور نفرت سے جلتا ہے وہ اپنے نفس وئی کے لیے ایک وبلا شکار ہے اصد مراتب بر چشمیم اہل کیں چشم تا بینی و کور و امورے بینہ رکھنے والوں کی آنکھ سے ہزار درجہ اچھی ہیں وہ آنکھیں ؟ اندھی نا بینا اور کاتی ہوں ین بر سر کین و تعصب خاک باد هم بفرق کی ومال نکستر عداوت اور تعصب پر لعنت بھیج اور کہنہ دروں کے سر پر ڈھول ڈالی۔۔