دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 170

سخت شورے اوفا و اندر تین رحم کن بر خلق اسے جال آفرین : زمین میں سخت شود رہا ہے اسے جان آفریں اپنی مخلوقات پر رقم اگر مر فصل از جناب خود نما انا شود قطع مزارع و فتنه باد اپنی درگاہ سے کوئی فیصلہ کرنے والی بات ظاہر کر۔تاکہ جھگڑے اور فساد بند ہو جا نہیں ار ر آسمانی فیصلہ صفحہ د) مد البند ها خوشنود نیست بیچی ہوا نے چو او مرده و نیست خدا بندہ سے خوش نہیں ہے تو اس جیسا کوئی جوان بھی تمہیں کر سنگ نفس دتی را پروریم از سگان کوچه را ہم کمتریم را اگر ہم اپنے ذلیل نفس کو پانے میں لگے ہیں تو ہم گلیوں کے کتوں سے بھی بہتر نہیں اسے خدا سے طالباں رسالہ ہنما ایک مر تو حیات روح ما اسے خدا۔اسے طالبوں کے رہنما اسے دو کہ تیری محبت ہماری مروج کی زندگی بر رضا کے خویش کن انجامیم ما تا بر آید در دو عالم کامیم ما تو ہمارا خاتمہ اپنی رضا پر کر کہ دونوں جہان میں ہماری مراد پوری ہو تعلق و عالم جمله در شور و شراند طالبانت در مقام دیگر اند امام دنیا اور اس کے لوگ سب شوید شر میں مصروف میں اگر تیر سے طالب اور ہی مقام پر ہیں اگر طالب اس کیسے اندر سے بجتی یہ دل وال دگر رامے گزاری پا بینگن ان میں سے ایک کے دل کو تو نور بخشتا ہے اور دوسرے کو کیچڑ میں پھنسا ہو ا چھوڑ دیتا ہے