دُرِّ عَدَن — Page 84
در عدن 84 ترے سامنے ہاتھ پھیلا رہی ہوں مری شرم رکھ میری جھولی بھرا دے وہ محبوب تیرا ہمارا خلیفہ بہت دن سے بیمار ہے اب شفا دے گھرے ہیں جو بادل یہ پھٹ جائیں سارے ہوائیں تو رحمت کی اپنی چلا دے کرم سے انہیں تندرستی عطا کر بلائیں ٹلیں اور خوشیاں دکھا دے اندھیرا مٹے روشنی پھیل جائے اب اک اور عالم کو پھیرا دکھا دے کہو سننے والو میرے ساتھ آمین خدا تم کو بہتر بہتر جزا دے (مصباح دسمبر ۶۱ء وجنوری ۶۲ء )