دُرِّ عَدَن

by Other Authors

Page 6 of 126

دُرِّ عَدَن — Page 6

در عدن سر اٹھانے کی نہ بستر سے جو ہمت پائے کیا کرے آہ! وہ مجبور وہ زار و ملیں و غمگیں رکھ تسلی دل بیمار! ابھی آتے ہیں درد مزمن کی دوا باعث راح و تسکیں مرہم زخم دل مادر مهجور و حزین زینت پہلوئے ما جانِ جہاں می آید گلشن حضرت احمد میں چلی باد بہار ابر رحمت سے برسنے لگے پیہم انوار بچے ہنستے ہیں خوشی سے تو بڑے ہیں دلشاد جذبہ شوق کے ظاہر ہیں جنہیں پر آثار تازگی آ گئی چہروں یہ کھلے جاتے ہیں دل کی حالت کا زباں کر نہیں سکتی اظہار مژده وصل لئے صبح مسرت آئی فضل مولا سے ہوئی دور اداسی یک بار نور می بارد و شاداں در و سقف و دیوار اے خوشا وقت ! مکیں سوئے مکاں می آید 6 ( الفضل ۲۵ نومبر ۱۹۲۴ء) مراد امتہ الھی بیگم مرحومہ جوعلیل تھیں۔”مبارکہ