دُرِّ عَدَن — Page 107
107 رود خدا کے سامنے آنسو بہاؤ تم آگ جس طرح سے مجھے اب بجھاؤ تم نے خدا کے دین کو بالکل بھلا دیا جو جو تھے حکم کو نظر گرا دیا دل خدا کا نقش محبت مٹا دیا اتنے بڑھے کہ خوف بھی دل سے اٹھا دیا فریاد سب کیا کریں آقا کے سامنے تڑپا کریں نماز میں مولا کے سامنے سے سن لے دعائیں سب رب کریم فضل رحمت گر حکم اپنی بخش ہماری خطائیں سب ہو تو کھول کے سینہ دکھائیں سب آقا سنیں تو قصہ دل کہہ سنائیں سب دل کانپتا ہے ڈر سے زبان رحمت تیری مگر ذرا ہمت بندھاتی لڑکھڑاتی ہے ہے در عدن