درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 161

ہر کہ گیرد درش بصدق و حضور از در و بام او ببارد نور har ke geerad darash basidqo hozoor az daro baame oo bebaarad noor جو شخص اس کے دروازہ کو صدق اور اخلاص سے اختیار کرتا ہے اس کے دروازہ اور چھت سے نور برسنے لگتا ہے نور تابان چو ز پیشانی noor taabaan choo mah ze peeshani رو ز ز عشق ربانی ہمہ پر por hame rooze 'ishqe rab-baani اُس کی پیشانی سے چاند کی طرح نور چمکتا ہے اور عشق الہی سے سارا چہرہ روشن ہو جاتا ہے عشق آن یار مدعا ishqe aan yaar mod-da-'aa gashte دل ز غیر خدا جدا گرفته dil ze ghaire khodaa jodaa gashte لطف اُس دوست کا عشق اس کا مدعا بن گیا ہے اور غیر اللہ سے اس کا دل جدا ہو گیا ہے او ترک طالبان نکند کس بکار رہش زیان نکند kas bekaare rahash zeyaan nakonad lotfe oo tarke taalebaan nakonad خدا کا لطف ہمیشہ اپنے طالبوں کے شاملِ حال رہتا ہے اُس کی راہ میں کوئی نقصان نہیں اٹھاتا هر که آن در گرفت کارش شد صد امیدے بروزگارش شد sad om-meedey baroozgaarash shod har ke aan dar gereft kaarash shod جس نے وہ دروازہ اختیار کر لیا اُس کا کام بن گیا اور اس کے کاروبار کی کامیابی پرسینکڑوں امید میں بندھ گئیں مثل آں داستاں کجا دیدی پس misle aaN dilsetaaN kojaa deedi پس چرا ہجر او پسندیدی pas cheraa hejr oo pasaNdeedi تو نے اُس محبوب کی طرح کا کوئی اور محبوب کہاں دیکھا ہے پھر کیوں اُس کی جدائی کو پسند کر لیا 498