درثمین فارسی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 369

درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 279

تکیه بر اعمال خود بے عشق رویت انہی است takye bar a'maale khod be 'ishqe rooyat ablaheest غافل از رویت نه بیند روئے نیکی زینهار ghaafel az rooyat na beenad roo'ey neeki zeenhaar تیرے عشق کے سوا صرف اپنے اعمال پر بھروسہ کرنا بے وقوفی ہے جو تجھ سے غافل ہے وہ ہرگز نیکی کا منہ نہ دیکھے گا درد مے حاصل شود نورے ز عشق روئے تو dar dame haasel shawad noorey ze 'ishqe roo'ey too کال نباشد سالکاں را حاصل اندر روزگار kaaN nabaashad saalekaaN raa haasel aNdar roozgaar تیرے عشق کی وجہ سے ایک دم میں وہ نور حاصل ہو جاتا ہے جو سالکوں کو ایک لمبے زمانے میں حاصل نہیں ہوتا از عجائب ہائے عالم ہر چه محبوب و خوش است az 'ajaa'ib-haa'ey 'aalam har che mahboobo khoshast شان آل هر چیز بینم در وجودت آشکار shaane aaN har cheez beenam dar wojoodat aashkaar دنیا کی عجیب چیزوں میں سے جو چیز بھی دل پسند اور مفید ہے ایسی ہر چیز کی خوبیاں میں تیری ذات میں پاتا ہوں خوشتر از دوران عشق تو نباشد هیچ دور khoshtar az dauraane 'ishqe too nabaashad heech daur خوبتر از وصف و مدح تو نباشد هیچ کار khoobtar az wasfo madhe too nabaashad heech kaar تیرے عشق کے زمانہ سے اور کوئی زمانہ زیادہ اچھا نہیں اور کوئی کام تیری مدح و ثنا سے زیادہ بہتر نہیں منکہ رہ بُردم بخوبی ہائے بے پایانِ تو manke rah bordam bakhoobi-haa'ey bepaayaan-e too جل گدازم بہر تو گر دیگرے خدمت گزار jaaN godaazam behre too gar deegrey khidmat gozaar چونکہ مجھے تیری بے انتہا خوبیوں کا تجربہ ہے اس لئے اگر دوسرے تیرے خدمت گزار ہیں تو میں تجھ پر جان فدا کرنے کو تیار ہوں 273