درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 297 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 297

نمبر شمار نام شاعر ۵۹ € ۶۳ سعدی نامعلوم اشعار گر نه بیند بروز شیره چشم به چشمه آفتاب را چه گناه ؟ اگر چمگارڈ جیسی آنکھوں والے دن کے وقت نہ دیکھ سکیں ، تو روشنی کے سرچشمہ سورج کا کیا قصور ؟ (ضیاء الحق صا ) مبادا دل آن فرو ما به شاد که از بهر دنیا دهد دین بیاد خدا کرے اس کمینے کا دل کبھی خوش نہ ہو، جستی دنیا کی خاطردین کو برباد کر لیا۔ستاره ستمبر او شمول آرین هرمت ) هفتصد و هفتا و قالب ایده ام بارہا چون سبزه با روئید ام یکن سات سوستر یعنی بیشمار سانچوں سے گذرا ہوں اور بار بار نباتات اور ہر یادوں کی شکل میں اگا ہوں۔سعدي حافظ ۶۴ نامعلوم دست بچن مت) حقا که با عقوبت دو زرخ برابر است به رفتن بیائے مردی همسایه دربهشت بخدا دوزخ کے عذاب کے برابر ہے ، ہمسایہ کے بل بوتے پر بہشت میں جاتا۔(مجموعه اشتهارات ص۵۸) محال است سعدی که راه صفا : توان یافت جز در پئے مصطفے اسے سعدی صفائی کے راستہ کو پانا ، محمد مصطفے کی پیروی کے بغیر تمکن نہیں۔در کوئے نیکنامی مارا گذر ندادند به گر تو نمی پسندی تغیر کن قضا را نیک نامی کے راستہ تک بھی رسائی نہیں ملی، اگر تجھے پسند نہیں توحکم قضا کو بدل لے (اگر تھے مجموعه اشتهارات حصه سوم ص ۲۳۱۰۲) سے ہوسکے)۔نداریم اسے یار با نسیه کار به اگر قدرنت بہت نقد سے بسیار اسے دوست ہیں ادھار سے کچھ غرض نہیں۔اگر تجھ میں ہمت ہے تو نقد حاضر کر (استفتاعت )