درثمین فارسی کے محاسن

by Other Authors

Page 199 of 356

درثمین فارسی کے محاسن — Page 199

١٩٩ بے دلارام نایدش آرام : گه برویش نظر گیے بکلام۔من خود از بهر این نشان زادم : دیگر از ہر غمے دل آزادم ! ور ثمین طن) دور مین ملت صد به ارامی نقش بخشی وجود + مهرومه را پیشش آری در بجواره تجنیس مرکب در مین شتا دو متجانس لفظوں میں سے ایک مفرد ہو اور دوسرا مرکب جیسے اسے تافت اول بر دیار تازیاں : تازیانش را شود در مان گئے سر از فرمان آن حاکم مبردار : که دارد، قدرت بردار کردن در تمین منت ) ص۳۵) (در تمین ) دل می ترسد بهر تو را از مدت هم پایداری با بی خوش میرم تا اداره در عین منشا) الے ترجمہ : اسے جو کے غیر آرام نہیں آتا کبھی اس کودیکھنے کی خواہش رکھتا ہے اور کبھی کوم شکنے کی۔میں خود اس نشان کو دکھانے کے لئے پیدا ہوا ہوں، دوسرے تمام غموں سے آزاد ہوں۔تو اس کو اپنے کرم سے لاکھوں نھیں بخشتا ہے ، اور سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ کرواتا ہے۔سے ترجمہ : پہلے وہ عربوں کے ملک پر چپکا ، تا اس کی کوتاہیوں کا علاج کرے۔اس حاکم کے حکم سے سرتابی ذکر ، جو پھانسی پر چڑھانے کی قدرت رکھتا ہو۔تیری محبت میں میرا دل موت سے بھی نہیں ڈرتا ، میرا استقلال دیکھ میں صلیب کی طرف کیسا خوش و خرم جا رہا ہوں۔