احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 34
34 اسے پرانے قصوں کی کتاب کہا جانے لگا۔بعضوں نے حدیث رسول کو قول خدا پر ترجیح دینی شروع کر دی۔کتنی بدنصیبی کہ جو کتاب معارف کا خزانہ اور ھدی للناس بنائی گئی تھی قدرناشناس مسلمان اسکی عظمت اور برکتوں سے کلیتہ بے بہرہ ہو گئے۔ایسے وقت میں احمدیت آئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ظہور ہوا اور آپ نے قرآن مجید کے حقیقی حسن و جمال سے دنیا کو آگاہ کیا۔آپ نے قرآن مجید کو ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا۔آپ نے نسخ قرآن کے عقیدہ کا بطلان قوی دلائل سے کیا اور ثابت کیا کہ اس عظیم کتاب کا ایک ایک لفظ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کا ایک شعشہ قیامت تک منسوخ یا تبدیل نہیں ہوسکتا۔یہ کتاب علوم ومعارف کا خزانہ اور کل دنیا کی نجات کا سر چشمہ ہے۔آپ نے فرمایا: یقینا یہ سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کا نوں کے سن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں“۔(روحانی خزائن مطبوعه لندن ۱۹۸۴ جلد ۱۰ ، اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۱۲۸-۱۲۹) آپ نے اپنی جماعت کو نصیت کرتے ہوئے فرمایا: " تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جولوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع