احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟ — Page 26
26 جماعت احمد یہ میں نظام خلافت کو جاری فرمایا۔وہ جنہوں نے اس نعمت خداوندی سے منہ موڑا وہ گمراہی اور تاریکی میں بھٹکتے رہے اور آج بھی محرومی اور ناکامی ان کا نصیب بنی ہوئی ہے۔لیکن وہ جنہوں نے نور خلافت سے اپنے سینوں کو منور کیا۔اس شمع خلافت پر پروانہ وار فدا ہوئے اور خلیفہ وقت کی ہر آواز پر لبیک لبیک کہتے ہوئے جان و مال اور عزت و آبرو کے نذرانے پیش کرنے کو اپنی سعادت سمجھا، دیکھو اور سنو کہ ان پر کس طرح خدا تعالیٰ کے غیر معمولی فضلوں کی موسلا دھار برسات ہوئی۔نظام خلافت کی برکت سے جماعت احمد یہ کو نیکی کے ہر میدان میں ترقی اور مضبوطی عطا ہوئی۔خوف کی ہر حالت امن میں بدلتی رہی۔آج ساری دنیا میں یہ واحد جماعت ہے جو خلافت کے بابرکت نظام سے فیضیاب ہے۔جماعت کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مخالفت کی ہر تحریک خلافت کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتی رہی۔پیغامیوں کا فتنہ ہو یا احراریوں کا، ۵۳ کے ملک گیر ہنگامے ہوں یا ۷۴ کے بھیانک فسادات اور یا ۸۴ کے بعد کے دلخراش واقعات جن کے نتیجہ میں پاکستان کی سرزمین جگہ جگہ معصوم احمدیوں کے خون سے رنگین ہوگئی ، خلیفہ وقت کی اولوالعزم قیادت اور راہنمائی میں جماعت ہر آزمائش کے وقت مومنانہ شان کے ساتھ آگے سے آگے بڑھتی رہی۔خلافت کی برکت سے جماعت نے فتوحات کی بلندیوں کو چھوا اور اسکی فدائیت، قربانی، اور والہانہ عشق و وفا کے معیار بلند سے بلند ہوتے گئے۔مصائب کے بھڑکتے شعلوں میں بھی کوئی ان کے چہروں کی مسکراہٹیں نہ چھین سکا۔وہ جس نے کہا تھا کہ میں احمدیوں کے ہاتھوں میں کشکول پکڑا دوں گا ، وہ تختہ دار پر لٹکتا نظر آیا اور جس نے یہ تعلی کی تھی کہ میں قادیانیت کے کینسر کو ختم کر کے دم لوں گا وہ اسی دنیا میں جہنم کی آگ میں ایسا بھسم ہوا کہ جسم کا کوئی