دُختِ کرام — Page 64
۵۲ ہونگے کہ مکرم و محترم جناب بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی مجھے آٹے اور آتے ہی مجھے مبارک باد کسی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ آپ اُٹھیں اور میرے ساتھ چلنے کی تیاری کریں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مجھے قادیان سے آپ کو ساتھ لے جانے کے لیے بھیجا ہے کہ لاہور سے مولوی غلام رسول را جیکی کولے آؤ۔عزیزہ امتہ الحفیظ کے نکاح کی تقریب پر خطبہ اور اعلان وہی کریں گے یہ سن کر مجھے اپنی رڈیا کی تعبیر کا فورا علم ہو گیا کہ رڈیا کی ہی تعبیر معلوم ہوتی ہے جو خطبہ نکاح سے پوری ہونے والی ہے۔چنانچہ خاکسار را قم بھائی عبدالرحمن صاحب مکرم و محترم کی معیت میں قادیان پہنچا اور بیت اقصٰی میں جہاں نواب محمد علی خان صاحب بمعہ اپنے فرزند عزیز نواب محمد عبداللہ خانصاب اور افراد جماعت تشریف فرما تھے۔حضرت کی طرف سے پندرہ ہزار روپیہ کے مہر مقرر فرمانے کے ساتھ خطبہ نکاح پڑھنے کا حکم دیا گیا۔اور حضرت مبارکہ بیگم صاحبہ کا نکاح تو حضرت مولانا نورالدین صاحب نے پڑھا تھا۔لیکن حضرت دخت کرام کا خطبہ نکاح اور اس کے اعلان کرنے کی سعادت اور برکت مجھے نصیب ہوئی ہے این سعادت بزور بازو نیست و تا نه بخشد خدائے بخشنده اس وقت میرے بیٹے عبد حقیر اور خادم نا چیز کو خطبہ نکاح کے لیے لاہور بلوانا اور خطبہ پڑھوانا قادیان کے رہنے والوں کے لیے بھی سخت باعث تعجب ہوا۔اس لیے کہ قادیان میں بڑے بڑے نامی گرامی علمامہ اور فضلا۔جیسے قاضی امیر حسین صاحب حضرت سید سرور شاہ صاحب ، حضرت