دُختِ کرام — Page 58
۴۶ میں صرف نکاح بھی نا مناسب معلوم ہوتا ہے۔عزیز عبداللہ خان نہایت نیک اور صالح نوجوان ہے اور اس کے متعلق ہمیں کسی قسم کا اعتراض نہیں بلکہ ہم سب اس رشتہ کو پسند کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو یہ رشتہ طے ہو جائے، لیکن پھر بھی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ ابھی سے یہ رشتہ کر دیا جائے ہاں اس قدر وعدہ کر سکتے ہیں کہ اگر آپ کو اور آپ سے زیادہ لڑکے کو یہ رشتہ منظور ہو اور وہ عزیزہ کے بلوغ تک انتظار کرنا منظور کرے تو اس وقت تک کہ عزیزہ امتہ الحفیظ بالغ ہو ہم اس رشتہ کا انتظار کریں گئے الا ماشاء اللہ اور اس کو دوسری جگہوں پر ترجیح دیں گے آگے آئیندہ کے حالات کیا اللہ تعالٰی کو علم ہے ہاں اگر کچھ مدت کے بعد عزیزہ کے ڈیل ڈول میں خاص تغیر معلوم ہو جس سے جلد بڑھنے کی امید ہو تو اس وقت پھر اس تجویز پر غور ہو سکتا ہے موجودہ حالات میں عزیز عبداللہ خان کو ایک ایسے عہد سے جکڑنے کی جس کے پورا ہونے کے لیے ابھی سالہا سال کے انتظار کی صورت در پیش ہے کوئی ضرورت نہیں معلوم ہوتی اُمید ہے کہ آپ ان جوابات کو مناسب سمجھ کر ابھی اس معاملہ پر زور نہ دیں گے۔والسلام مرزا محمود احمد ایک سال کے بعد حضرت نواب صاحب نے پھر تحریک کی جسے شرف قبولیت بخشا گیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تحریر فرمایا: