دُختِ کرام — Page 447
۴۳۵ نورانی چیره از محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ (ہیڈ معلمہ صدر لجنہ اماء اله سیمی جمال وال استان ) اس عاجزہ کا یہ خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صرف ایک بیٹی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ہیں۔پاکستان بننے کے چند سال بعد جب ہم لوگ جلسہ سالانہ پر ربوہ گئے تو معلوم ہوا کہ آپ کی دوسری بیٹی حضرت نواب اما الحفیظ بیگم صاحبہ بھی ہیں، جو آج کل ربوہ میں مکرم صاجزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے گھر مقیم ہیں۔یہ ما جزو آپ کی زیار کے لیے حاضر ہوئی۔معلوم ہوا کہ آپ ایک چھوٹے کمرہ میں بوجہ سردرد کے لیٹی ہوتی ہیں آپ سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔بہت پریشان ہوئی کہ جلسہ سالانہ تو گزر گیا اور اب واپس جانا ہے یا اللہ زیارت ہو جائے۔کچھ سوچ کر دبے پاؤں آہستگی سے کمرے میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی۔چند مستورات اندر بیٹھی تھیں کسی نے مجھے ہلکی آواز سے واپس جانے کا کہا۔جبکہ میں آپ کا مقدس چہرہ دیکھنا چاہتی تھی۔آپ ایک چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں دروازے کی جانب پشت تھی یہ عاجز نہ دیکھ پائی روکنے والی کی دھیمی آواز سن کر آپ نے اپنا چہرہ مبارک بڑی بشاشت سے میری جانب کر کے میری طرف دیکھا۔اور مجھے ان کا اس قدر تکلیف میں خیال رکھنا اور خواہش پوری کر دیا۔مجھے بہت متاثر کر گیا۔اس کے