دُختِ کرام — Page 35
۲۳ حضرت مسیح موجود کی وفات ہوئی تو اس وقت حضور کا گھر روپے پیسے سے بالکل خالی تھا۔اور حضور اپنا آخری روپیہ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کے ذریعہ اس گاڑی بان کو دے چکے تھے جس کی گاڑی میں حضور وفات سے قبل شام کے وقت سیر کے لیے تشریف لے گئے تھے۔اس کے بعد اچانک حضرت مسیح موعود کی وفات ہو گئی اور حضور کا یہ الهام پورا ہوا کہ الرّحِيلُ ثُمَّ الرَّحِيلُ - اب کوچ کا وقت آگیا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔"ڈرو مت موضور یعنی اسے احمد یو! ہمارے مسیح کی وفات سے جماعت کو سخت دھچکا پہنچے گا۔مگر تم ڈرنا نہیں اور خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھنا۔پھر انشاء اللہ سب خیر ہے۔اس کے بعد جب ۲۶ رمتی شانہ کو صبح دس بجے کے قریب حضرت مسیح موعود کی وفات ہوئی تو جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس وقت ہمارا گھر دنیوی مال و زر کے لحاظ سے بالکل خالی تھا۔ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلما اللہ تعالیٰ کی روایت ہے داور یہ بات مجھے خود بھی مجمل طور پر یاد ہے) کہ ہماری اماں جان نے اس وقت یا اس کے تھوڑی دیر بعد اپنے بچوں کو جمع کیا اور صبر کی تلقین کرتے ہوتے انہیں نہ بھولنے والے