دُختِ کرام

by Other Authors

Page 362 of 497

دُختِ کرام — Page 362

۳۵۰ کے ذہن میں یہ خیال آتے کہ بعض نبیوں کی اولاد کے بارہ میں قرآن کریم میں وضاعت ہے کہ وہ خدا کے قہری نشان کا شکار ہوتے اور وہی خدا کی گرفت سے بچا جس کے اعمال صالحہ تھے اور اللہ کے بندے اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرتے ہمیں دکھائی دیتے ہیں کہ خدا کے حضور میری اولاد ہو نا تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔تمہارے اعمال تمہارے کام آئیں گے اس میں کوئی کلام نہیں کہ صرف حسب و نسب کی کوئی اہمیت نہیں اگر اس کے ساتھ اعمال صالحہ کی تائید نہ ہو۔اور مامور کا اہل وہ نہیں ہوتا جس کے اعمال غیر صالح ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ جملہ اپنی کتب میں خود نقل کیا ہے کہ سر که عارف تر است ترسان تر کہ خدا کی جتنی معرفت نصیب ہوگی اتنا ہی اس سے خوف ہو گا۔اس کے عارف بندے ہمیشہ ترسان و لرزاں رہتے ہیں نہ کبھی وہ کسی نیکی کے موقع کو ضائع ہونے دیتے ہیں اور نہ کسی عمل پر انہیں ناز ہوتا ہے۔لیکن یہ بھی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیدائش کے وقت ہی اللہ تعا اس امر کا فیصلہ کر دیتا ہے کہ مولود شقی ہوگا یا سعید" اور اللہ کے نیک بند اس دنیا میں بعض بندوں کے متعلق اس عالم آب و گل میں اس کا اظہار بھی فرما دیتے ہیں کہ خدا کے اس بندے کو اس کی رضا اور مغفرت کی خلعت پہنا دی گئی ہے اور ایسی بشارت کا اعلان بھی کر دیا جاتا ہے۔یہاں اعمالِ صالحہ کی نفی مقصود نہیں کہ ایمان کا درخت نشود نما پاتا ہے اعمال صالحہ کے پانی سے۔لیکن اس امر کی وضاحت بھی ضروری تھی