دُختِ کرام

by Other Authors

Page 339 of 497

دُختِ کرام — Page 339

۳۲۷ بھی دیکھو کہ ذکیہ رانجھے میاں فوج سے ریٹائر ہو کر واپس آرہے تھے۔امی جان ان کی کوٹھی میں رہ رہی تھیں ابھی ان کی کوٹھی نہیں بنی تھی اور ان کا گھر ضرورت کے لحاظ سے ناکافی تھا) کے آنے کی وجہ سے کتنی پریشانی ہو گی مگر اللہ جانتا ہے میں نے ٹھان لی ہے کہ انشاء اللہ جیسے بھی حالات ہوتے مقابلہ کروں گی صرف اللہ پر توکل کرتے ہوئے تمہیں بالکل نہ تو کل ہے نہ ایمان ہے جو ہونا ہے ہو کہ رہے گا۔انسان صرف دُعا کرے اور پھر کشتی اللہ کے سہارے پانی میں چھوڑ دے۔۔۔۳۰ ر اکتوبر ۹۴ " میری پیاری ہے بی ! چھوٹی چھوٹی باتوں کا احساس چھوڑ دو۔زندگی میں جو گھڑی خوشی کی ملے اس سے فائدہ اُٹھاؤ اس طرح صحت گر جاتی ہے۔بیماریاں آتی ہی رہتی ہیں۔تمہارے ا با تیرہ سال پڑے رہے۔میں نے تو ان دنوں کو بھی ENJOY کیا تھا۔وہ بھی ایک زندگی بنالی تھی کتابیں پڑھتی۔دعاؤں کے خطوط لکھتی یا ہم دونوں باتیں کرتے رہتے یا پھر تم سے اور مصطفی سے دل بہلاتے۔باوجود مالی تنگی کے وہ وقت بھی ہنس کر گزار لیا۔ہسپتال میں مریضوں سے دلچسپی لینے لگتی چلتے پھرتے لوگوں کو دیکھ کر سوچتی کہ یہ کیا سوچ رہے ہونگے