دُختِ کرام

by Other Authors

Page 316 of 497

دُختِ کرام — Page 316

۳۰۴ ہی تعلق تھا۔بقول ان کے گودی کے بچے والا۔ان کے کن کن احسانوں کا ذکر کروں قلم چلتی نہیں اور الفاظ شرما جاتے ہیں ہر وقت دل میں نشتر چھینتے ہیں کہ میری طرف سے امتی کو کتنی تکلیفیں پہنچیں اور کسی صبر اور ہمت سے نہ صرف خود برداشت کیں بلکہ مجھے بھی سہارا دیا۔اب تو یہی آرزو ہے کہ میری ہر ہر سانس اس مشفق اور پیاری ہستی کے لیے دعا بن جائے اور مجھ سے ایسے اعمال سرزد ہوں جو ان کی بلندی درجات کا موجب بنتے رہیں۔ابا کی وفات کے بعد امی کی صحت بہت گر گئی۔مجھ پر ابا کی وفات کا بہت اثر تھا۔اوپر سے امتی کی حالت دیکھ کر بالکل ہی اعصاب جواب دے گئے۔امی بہت گھبرا گئیں۔تبدیلی آب و ہوا کے لیے مجھے آیا قدسیہ کے پاس لندن بھیجنا چاہا لیکن میری طبیعت کی پر مردگی دیکھ کر سب کے کہنے پر خود جانے کے لیے تیار ہو گئیں اس وقت کے حالات کے تحت یہ بہت بڑی قربانی تھی۔ابھی خود ابا کے صدمہ سے نڈھال تھیں۔مسلسل محنت مشقت اور بیماری کے ماحول سے خود ان کے بھی اعصاب پر بہت اثر تھا، لیکن میری خاطر ہمت کر ہی لی اور یوں یہ سفر زبورگ کی بیت کی بنیاد کا باعث بنا اور عیسائیت کے گڑھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے چھوٹی بیٹی کے ہاتھوں خانہ خدا کی بنیاد رکھی گئی اور یوں خدا تعالیٰ نے سال ہا سال کی قربانی خاوند کی خدمت و وفا کا اجر اس عظیم الشان کام کے ذریعے آپ کو عطا کیا جو تاریخ احمدیت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ممالک یورپ کے لیے انشاء اللہ موجب