دُختِ کرام — Page 286
۲۷۴ بالکل فراموش کیا ہوا تھا۔میری امی جن کو حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد اپنی ساری شفقتیں اور محبتیں دیں اور بے حد ناز و نعمت میں پرورش کیا اور پھر میرے ابا جان نے ان کو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام سمجھتے ہوتے ہمیشہ پھولوں کی طرح رکھا۔اس شہزادی نے کبھی کسی قسم کی بڑائی یا غرور نہیں کیا۔بلکہ ابا جان کی بیماری میں ایسی خدمت کی جو ایک مثال ہے نہ دن دیکھا نہ رات اباجان پانچ سال تک تو بالکل صاحب فراش رہے اس عرصہ میں بیڈ ہین لگانا اور اکثر خود صاف کرنے میں بھی کبھی عار نہیں کیا۔اور نہ کبھی ابا جان کو یہ احساس ہونے دیا کہ وہ تھکن سے چور ہیں۔اپنی ہر تکلیف کو چھپاتی رہیں صرف اس خیال سے که ابا جان تکلیف محسوس نہ کریں۔پھر خدا تعالیٰ نے فضل کیا اور درمیان میں ایسا عرصہ بھی آیا کہ ابا جان چلنے پھرنے لگے اور اپنے روزمرہ کے معمولات کو سرانجام دینے لگے۔مگر چونکہ دل کا دورہ انتہائی شدید تھا۔اس لیے بار بار کئی دفعہ ان تیرہ چودہ سالوں میں ابا جان پر مختلف بیماریوں کا حملہ ہوتا رہا۔اور میری امی نے ان چودہ سالوں میں اپنے لیے ہر قسم کا آرام حرام کیا ہوا تھا امی پر صرف ابا جان کی بیماری اور تیمارداری کا ہی بوجھ نہیں تھا۔بلکہ ہرقسم کی ذمہ داریاں آن پڑی تھیں میرے سب سے چھوٹے بہن بھائی۔فوزیہ اور مصطفے جو کہ ابھی بہت کم عمر تھے ان کی دیکھ بھال نیز ابا جان کی بیماری کے تمام اخراجات کا انتظام اور گھر یلو ذمہ داریاں اس کے علاوہ تھیں جن کو امی نے احسن طور پر نبھایا۔پھر