دُختِ کرام — Page 193
(A) فوت ہو جائے گی یہ بچی ۲۸ جنوری سہ میں پیدا ہوئی اور اسی سال ۳ دسمبر ہ کو یہ بچی انتقال کرگئی اور حیرت انگیز طور پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس کشنی خبر اور الہام کو پورا فرمایا۔دعا کے نتیجہ میں ایک خطرے کو ٹال دیا اور دوسر حصے کو پورا فرما دیا اسی صبر کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو جزا حضرت صاحب اور حضرت اماں جان کو عطا فرمائی وہ حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ تھیں۔چنانچہ آپ کے متعلق دخت کرام کا انعام تسکی اور محبت کے اظہار کے علاوہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کے کرمیانہ اخلاق کا لوگ مشاہدہ کریں گے اور اس کے گواہ ٹھہریں گے کیونکہ ذخت کرام کا یہ مطلب تو نہیں کہ کرہ ہمانہ اخلاق والوں کی بچی تھی یا نہیں پس اس میں ایک لمبی عمر کی پیشگوئی شامل تھی مطلب یہ تھا۔کہ ایک ایسی بیچی جو اپنے اخلاق سے ثابت کرے گی۔کہ وہ کریمانہ اخلاق والوں کی بیٹی ہے اور یہ ایک عام محاورہ ہے جو کسی اچھے بزرگ کی اولاد کے ساتھ وابستہ ہے یعنی ایسے بزرگ کی اولاد سے اچھے اخلاق کی توقع کی جاتی ہے اور جب اس سے اچھے اخلاق ظاہر ہوتے ہیں تو سب کہنے والے داد تحسین دیتے ہوئے اس شخص کے بزرگوں اور آبا و اجداد کو بھی یاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہاں تم نے حق ادا کر دیا۔آخر کن لوگوں کی اولاد تھے۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ دخت کرام میں حضرت پھوپھی جان کی لمبی عمر کی پیش گوئی تھی۔کیونکہ پہلی بیٹی چھوٹی عمر میں فوت ہو گئی تھی۔اس کے جواب میں دخت کرام کے اندر رہی یہ بتا دیا گیا کہ یہ اخلاق کریمانہ رکھنے والی