دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 228 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 228

کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پھر دُعا کی جاوے۔نادان لوگ تو نماز کو ٹیکس جانتے ہیں اور دُعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔نماز خود دعا ہے۔دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے اور ہر ایک مصیبت کے وقت انسان کو نماز کے اندر دُعائیں مانگنی چاہئیں۔(ملفوظات جلد پنجم ص:54) دعا کے لوازمات حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔اور دعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقت ہو اضطراب اور گدازش ہو۔جو دعا عاجزی ، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو بھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دعا کرتار ہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہولیکن یہ سیر نہ ہو تکلف اور تصنع سے کرتا ہی رہے۔اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہو جاتا ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی ہی میں برکت ہے کیونکہ آخر گوہر مقصداسی سے نکل آتا ہے اور ایک دن آجاتا ہے کہ جب اس کا دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقت جو دعا کے لوازمات ہیں پیدا ہو جاتے ہیں۔جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہولیکن اگر وہ اس 228