دُعائے مستجاب — Page 82
دعائے مستجاب۔ادھورے اور نامکمل رہ جاتے ہیں اور جب تک ہمارے کام مکمل نہیں ہو جاتے ہم فتح نہیں پاسکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عدد آئے اور خدا تعالیٰ کی مدد کو لانے کیلئے ایاک نستعین پر عمل کرنا ضروری ہے۔اگر ہم اپنی پوری جدو جہد خرچ کریں اور ساری کی ساری قوت لگادیں پھر بھی وہ کام نہیں چلے گا اگر کام چل جاتا تو خدا تعالیٰ اِيَاكَ نَعْبُدُ کے ساتھ ايَاكَ نَسْتَعِین نہ فرماتا۔اس میں یہی نصیحت ہے کہ تم پوری پوری جد و جہد کرو لیکن اس پر توکل نہ کر بیٹھو۔بیشک تم توکل اور جد و جہد کرتے ہو تو پوری کرتے ہو تم جو قربانی کر سکتے ہو پورے زور کے ساتھ کرتے ہو تم چندوں میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہو تم روزوں کے پابند ہو تم زکوۃ پوری دیتے ہو۔تم حاجتمندوں کی مدد کرتے ہو۔تم خدمت خلق کرتے ہو لیکن پھر بھی اگر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو تو خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرو۔اگر اياكَ نَسْتَعِین پر تم پوری طرح عمل نہیں کرتے تو یہ کامل عبودیت اس وقت ہی حاصل ہوتی ہے جب انیاک نستعین پر بھی عمل کیا جائے۔اپنے لئے خود دُعا کرنا بھی ضروری ہے۔پس جماعت کے دوستوں کو رسمی دعاؤں کیلئے کہنا چھوڑ دینا چاہئے۔جب کوئی شخص کسی سے کہتا ہے کہ وہ اس کے لئے دعا کرے تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی دُعا کرے۔اگر وہ مجھ کو دُعا کیلئے کہتا ہے اور آپ دُعا کیلئے کافی وقت نہیں نکالتا تو اللہ تعالیٰ دوسرے کے دل میں بھی دُعا کیلئے 82