حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 183 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 183

رشاہ صاحب گیا جب ہم اس سڑک کے محاذ پر پہنچے۔جو دہلی دروازہ کی طرف سے آکر لوہاری دروازہ کی طرف جاتی ہے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک انبوہ ہے جو دہلی دروازہ کی طرف سے آ رہا ہے۔اور انہوں نے ایک جنازہ اٹھایا ہوا ہے۔جنازہ کی چارپائی پر جو شخص لیٹا ہوا ہے اس کا مونہہ کالا کیا ہوا ہے۔آنکھیں اس کی چمک رہی ہیں اور اس کا سر ہلتا بھی ہے۔اور جنازہ کے ارد گرد کے لوگ یہ کہہ کر پیٹ رہے ہیں کہ ہائے ہائے مرزا میں اس ماجرا کو دیکھ کر حیران رہ گیا اور کچھ نہ سمجھا۔ٹانگہ ہمیں جلدی سے احمد یہ بلڈنگ کی طرف لے گیا۔اور اترتے ہی ایک شخص سے پوچھا کہ کیا ہے؟ اس نے مجھے جواب دیا کہ سچ ہے۔میں اس سے کچھ بھی نہ سمجھا۔اور گھبراہٹ میں بجائے اس سے مزید دریافت کرنے کے سیڑھی سے چڑھ کر او پر مکان میں پہنچا اور چوہدری ضیاء الدین صاحب مرحوم سے جو باہر بے بسی کی حالت میں زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔پوچھا کہ کیا ہے؟ انہوں نے مجھے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ہیں۔یہ سن کر میری ٹانگوں میں سکت نہ رہی۔اور میں بھی بیٹھ گیا۔پھر جلدی ہی وہاں سے اٹھ کر احمد یہ بلڈنگ کے پچھواڑے میں جہاں اس وقت ایک کھیت تھا، جا کر خوب رویا۔اور تنہائی میں دل کی ساری بھڑاس نکالی۔اس وقت دل کے غم کی انتہاء کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جانتا تھا۔پھر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے جنازہ کے ساتھ گاڑی میں بٹالہ پہنچا۔امرتسر اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہم نے مغرب کی نماز حضرت خلیفہ امسیح اول (اللہ آپ سے راضی ہو) کی اقتداء میں پڑھی جب بٹالہ پہنچے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا تابوت اتار کر اسٹیشن بٹالہ کے پلیٹ فارم پر رکھا گیا۔میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے رات کو اس تابوت کا پہرہ دیا۔جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا جسد مبارک باغ والے مکان میں رکھا گیا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے میں نے اور ۱۸۵